وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کو 50 ہزار جرمانے کی وارننگ

وائس چانسلر  زرعی  یونیورسٹی فیصل آباد کو اپنے سگے بھائی کے متعلقہ معلومات افشاء نہ کرنے پر پنجاب انفارمیشن کی طرف سے پچاس ہزار کا جرمانہ

ڈاکٹر فاروق تنویر پی ایچ ڈی سوشیالوجی کافی عرسے سے ڈاکٹر اظہار احمد خان اسوسی ایٹ پروفیسرسوشیالوجی کو پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے  ڈاکٹر آف سائنس کی ڈگری کو بطور پی ایچ ڈی ڈگری ڈِکلئیر کیے جانے کے سرٹیفکیٹ کا طلب گار تھا۔ اِس سلسلہ میں اُس نے عدالتِ عالیہ سے رِٹ پٹیشن نمبر 2022/49339  کے تحت رجو ع کیا لیکن انصاف نہ مل سکا۔ ڈاکٹر فاروق تنویر نے بالآخر رائٹ ٹو انفارمیشن کے قانون کے تحت پی آئی او زرعی  یونیورسٹی فیصل آباد کو درخواست دی لیکن اُس کی شُنوائی نہ ہوئی۔ پنجاب انفارمیشن کمیشن کے رُوبرو اپیل دائر کرنے پر پروفیسر ڈاکٹر محمد جلال عارف پی آئی او کو طلب کیا گیا۔کمیشن  نے پی آئی او کا مؤقف کہ مطلوبہ سرٹیفکیٹ پرائیویٹ انفارمیشن ہےرد کر دیا۔ دورانِ کاروائی کمیشن کے رُوبرو یہ بات سامنے آئی کہ  پروفیسر ڈاکٹر اظہار احمد خان دراصل وائس چانسلر اقرار احمد خان(تمغئہ اِمتیاز) کا سگہ بھائی ہے ۔ لہٰذا پی آئی او کمیشن کو معلومات کے افشاء کی یقین دہانی کرانے میں ناکام رہا۔ چیف انفارمیشن کمشنر محبوب قادر شاہ نے فیصلہ میں پی آئی او کا وائس چانسلر کے شدید دباؤ میں ہونا اور اِس وجہ سے معلومات کے افشاء کی یقین دہانی کرائے جانے میں ناکامی کو رائٹ ٹو انفارمیشن کے بنیادی حق کی نفی قرار دیا ۔ کمیشن پہلے ہی وائس چانسلر کو اس معاملہ میں مداخلت  کرنے اور انفارمیشن کے افشاء کرنے کا حکم  دے چکا  تھا لیکن وہ  اپنے بھائی سے متعلقہ معلومات افشاء کرنے میں ناکام رہا۔ کمیشن نے اپنے متقفہ فیصلے میں اقرار احمد خان وائس چانسلر زرعی  یونیورسٹی فیصل آباد کو مطلوبہ معلومات کی مصدقہ نقول اندر سات یوم افشاء کرنے کا حکم دیا۔ بصورتِ دیگر متعلقہ وائس چانسلر پچاس ہزار روپے جرمانہ کا مستوجب ہو گا۔ کمیشن نے سگے بھائی کی معلومات کے افشاء میں وائس چانسلر کی طرف سے رکاوٹ ڈالنے کو قابلِ افسوس اور خلافِ قانون قرار دیا ۔ کمیشن نے فیصلہ کی ایک نقل فاضل چانسلر / گورنر آف پنجاب کو ارسال کرنے کا حکم صادر کیا۔